پاکستان میں بینک صارفین کے لیے ایک نئی مشکل سامنے آ گئی ہے۔ اگر آپ کسی دوسرے بینک کے اے ٹی ایم سے کیش نکلواتے ہیں، تو اب آپ کو ہر ٹرانزیکشن پر 23 روپے کے بجائے 35 روپے کی کٹوتی برداشت کرنا ہوگی۔ یعنی ہر بار رقم نکالنے پر 12 روپے اضافی چارجز ادا کرنا ہوں گے، جو کہ خاص طور پر تنخواہ دار اور کم آمدن والے افراد کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بن سکتا ہے۔
بینکوں کے مطابق یہ فیصلہ انٹر بینک اے ٹی ایم نیٹ ورک کی مینٹیننس، آپریشنل اخراجات اور سیکورٹی سسٹمز کی بہتری کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم، عوام کی ایک بڑی تعداد اس فیصلے کو غیرمنصفانہ قرار دے رہی ہے۔ صارفین پہلے ہی اے ٹی ایم کارڈ فیس، ماہانہ سروس چارجز، اور دیگر فیسز ادا کرتے ہیں، ایسے میں ہر ٹرانزیکشن پر اضافی فیس کا اطلاق انہیں ذہنی اور مالی طور پر پریشان کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ اضافہ اسٹیٹ بینک کی اجازت سے ہوا ہے یا صرف کمرشل بینکوں کی جانب سے خود ساختہ قدم ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس فیس میں کمی یا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
ایسے میں صارفین کے پاس کچھ متبادل بھی موجود ہیں۔ سب سے پہلے، کوشش کریں کہ کیش نکالنے کے لیے اپنے ہی بینک کے اے ٹی ایم استعمال کریں تاکہ فیس سے بچا جا سکے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ موبائل بینکنگ، QR کوڈز یا دیگر ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے استعمال کیے جائیں تاکہ کیش کی ضرورت کم ہو۔
اگر آپ یہ خبر پسند کرتے ہیں تو درج ذیل اہم خبریں بھی ضرور پڑھیں:
- کراچی میں مشہور ٹک ٹاکر گرفتار – مکمل تفصیلات
- ایران اسرائیل تنازعہ: شمالی کوریا کی ممکنہ انٹری؟
- عاصم اظہر اور میراب علی نے راہیں جدا کر لیں؟