By Zeeshan Ex — Published June 14, 12:30 PM
اس سے ملتا جلتا ایک اور کیس ثنا یوسف کیس بھی خبروں میں رہا، جہاں واضح ثبوت ہونے کے باوجود قانونی نظام انصاف فراہم نہ کر سکا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق، بابرہ کی ذاتی زندگی خاصی ہنگامہ خیز رہی۔ والدین کی طلاق، والدہ کی 2017 میں دوسری شادی، اور سوتیلے والد کے ساتھ روزمرہ کے جھگڑوں نے اُسے سخت ذہنی دباؤ کا شکار بنا دیا۔ ان حالات میں وہ مسلم کمرشل کے ایک فلیٹ میں منتقل ہو گئی اور وہیں ماڈلنگ اور سوشل میڈیا سرگرمیاں جاری رکھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بابرہ نے ایک دہری زندگی اختیار کر رکھی تھی۔ ایک طرف وہ پرائیویٹ پارٹیوں میں شرکت کرتی تھی، اور دوسری طرف انہی تقریبات میں منشیات جیسے آئس (کرسٹل میتھ) اور کوکین کا استعمال اور سپلائی کرتی تھی۔
پولیس تفتیش کے دوران، اس نے اعتراف کیا کہ وہ پہلے بھی دو بار گرفتار ہو چکی ہے اور چوری جیسے جرائم میں بھی ملوث رہی ہے۔ پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ڈیفنس اور دیگر پوش علاقوں میں ہونے والی تقریبات میں منشیات فراہم کرتی رہی، اور اس کا نیٹ ورک کافی وسیع ہو سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں عاصم اظہر اور میراب علی کی راہیں جدا ہونے کی خبر نے بھی سوشل میڈیا صارفین کو شدید جذباتی ردعمل دیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ سوشل پلیٹ فارمز پر ہونے والی زندگی اور حقیقت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین شکل اختیار کر رہا ہے کیونکہ پولیس نے پرائیویٹ پارٹیوں پر نگرانی اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بین الاقوامی منظرنامہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ ایران اور اسرائیل تنازع میں شمالی کوریا کی شمولیت جیسی خبریں دنیا میں بڑھتے خطرات کو ظاہر کرتی ہیں، جو سوشل اور سیاسی عدم استحکام کو بڑھا رہی ہیں۔
یہ واقعہ صرف ایک گرفتاری نہیں، بلکہ ایک پورے سسٹم اور معاشرتی رویے پر سوالیہ نشان ہے۔ کب تک ہم ظاہری چمک کے دھوکے میں آنکھیں بند رکھیں گے؟ کب تک فالوورز کی تعداد کو کردار پر ترجیح دیں گے؟
Enjoyed the article? Check out TrendNama.com for more amazing tips and updates. Stay connected with us for the latest in tech, lifestyle, and entertainment!
1 Comment
Pingback: بینک صارفین کیلئے بری خبر: اے ٹی ایم ٹرانزیکشن فیس 35 روپے کر دی گئی » Tech, Politics, Movies & Mobile Updates | TrendNama