By Zeeshan Ex — June 8, 11:20am
📢 TrendNama پر خوش آمدید، جہاں آپ کو پاکستان کی تازہ ترین خبریں، سیاسی اپڈیٹس، اور سوشل میڈیا کے رجحانات ایک جگہ پر ملتے ہیں۔ اردو سیکشن کو ضرور وزٹ کریں!
اسلام آباد — ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں پیشرفت تو ہو چکی ہے، مگر سینئر صحافیوں کے مطابق مقدمہ کی نوعیت اور شواہد کی کمزوری کی وجہ سے ملزم کو سزا دلوانا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔ ایف آئی آر میں متعدد خامیاں موجود ہیں، جیسے کہ عینی شاہدین کی عدم موجودگی اور ٹیمپرنگ کے شبہات۔
نعیم مصطفیٰ نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ پولیس اور مدعیہ کے بیانات میں تضاد موجود ہے۔ مثال کے طور پر مقتولہ کی والدہ نے میڈیا پر کہا کہ وہ گھر پر نہیں تھیں، مگر ایف آئی آر میں خود کو گھر پر ظاہر کیا۔ مزید برآں، مقدمے میں وجہ عناد اور ملزم کی درست شناخت بھی شامل نہیں کی گئی۔
اگر آپ مزید تفصیل جاننا چاہتے ہیں کہ عمر حیات کیسے ثناء یوسف کے کمرے میں پہنچا؟ تو یہ مضمون ضرور پڑھیں۔
ملزم واردات کے فوراً بعد اپنے گھر چلا گیا جہاں سے پولیس نے فون اور مبینہ آلہ قتل برآمد کیا۔ اس کے باوجود کیس کی تفتیش میں فارنزک شواہد کا فقدان ہے کیونکہ اسلام آباد میں کوئی جدید فارنزک لیب موجود نہیں۔ اب تمام شواہد پنجاب لیب بھیجے جائیں گے جہاں ان کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور جائے وقوعہ سے ملنے والے خول اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب تفتیشی افسر کی کارکردگی پر منحصر ہے۔
تفتیشی ماہرین کے مطابق کمزور ایف آئی آر کے باوجود تکنیکی شواہد سے کیس کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ جیسے کہ موقع پر موجود امام مسجد یا قریبی دکانداروں کی گواہی۔
حکومتی اسکیمز سے متعلق بھی تازہ ترین رہنمائی پڑھنے کے لیے وزیراعظم یوتھ لون پروگرام میں اپلائی کرنے کا طریقہ دیکھیں۔
🔔 اپڈیٹ رہیں: پاکستان بھر کی مستند خبریں، حکومتی اقدامات اور بریکنگ اپڈیٹس کے لیے TrendNama کو وزٹ کرتے رہیں۔ خاص طور پر ہمارا اردو سیکشن چیک کریں جہاں آپ کو ہر خبر آپ کی زبان میں ملے گی۔